یومِ اقبال
:تحریر: سعید اللہ خان
9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں آنکھ کھولنے والے علامہ محمد اقبال نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کی اور پھر لاہور کا رخ کیا۔ 1899 میں (بعمر 22 سال) ایم اے کرنے کے بعد اورینٹل کالج میں شعبہ درس و تدریس سے وابستہ ہوگئے اور اس دوران شاعری بھی جاری رکھی۔ علامہ اقبال 1905 میں (بعمر 28 سال) برطانیہ چلے گئے جہاں پہلے انھوں نے کیمبرج یونیورسٹی ٹرنٹی کالج میں داخلہ لیا اور پھر معروف تعلیمی ادارے لنکنز اِن میں وکالت کی تعلیم لینا شروع کردی بعد ازاں وہ جرمنی چلے گئے جہاں میونخ یونیورسٹی سے انھوں نے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے 1910 میں (بعمر 33 سال) وطن واپسی کے بعد وکالت کے ساتھ سیاست میں بھی حصہ لینا شروع کیا اور اپنی شاعری کے ذریعے فکری اور سیاسی طور پر منتشر مسلمانوں کو خواب غفلت سے جگانا شروع کیا۔
’’ یارب دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنا دے‘‘
’’جو قلب کو گرمادے جو روح کو تڑپادے‘‘
علامہ اقبالؒ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجۂ شہرت ہے۔ انکی شاعری کا بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام تھا۔ اسی سلسلے میں انہوں نے "دا ری کنسٹرکشن آف ریلیجس تھاٹ ان اسلام" کے نام سے انگریزی میں ایک نثری کتاب بھی تحریر کی۔ علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔ بحیثیت سیاستدان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان (یعنی اسلامی ریاست) کی تشکیل ہے، جو انہوں نے 1930ء میں (بعمر 53 سال) الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔
’’ایک ہوجا اور توحید کا اظہار کردے‘‘
’’اپنے عمل سے غائب کو موجود کردے‘‘
یہی نظریہ بعد میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ گو کہ انہوں نے اس نئے اسلامی ریاست کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا۔ وہ قیامِ اسلامی جمہوریہ پاکستان سے 9 برس قبل 21 اپریل 1938 کو لاہور میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ انہوں نے ریاست اسلام کا نظریہ دیا۔ اسی لیے انہیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت بھی حاصل ہے۔
علامہ اقبال کی زندگی کا اگر مشاہدہ کیا جائے تو آپکو یہ معلوم ہوگا کہ انہوں نے اپنی زبان کا استعمال کرتے ہوئے صرف زبانی تحریک نہیں چلائی بلکہ انہوں نے اپنے مستقل عمل کی تحریک بھی چلائی۔ اپنی شاعری سے جہاں انہونے منتشر مسلم امت کو جو کئی ٹکڑوں میں بٹی ہوئی تھی اور انتشار کا شکار بھی تھی ایک پیج پر لائے وہیں اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے اسلامی ریاست کا نظریہ پیش کر کے مسلمانوں کو ایک سمت بھی دی اور اس سمت پر پہلے خود چلے اور کبھی پیچھے نہیں رہے۔
انکی زندگی سے ایک اہم سبق یہ بھی ملتا ہے کہ جو نظریاتی لوگ ہوتے ہیں وہ کبھی نظریہ کو اپنی شخصیت کا محتاج نہیں کرتے بلکہ اپنا نقطہ نظر واضح کرتے ہوئے اپنے نظریہ پر جم جاتے ہیں اور مستقل مزاجی کے ساتھ اسکو آگے بڑھاتے ہیں یہ سوچ کر نہیں کہ اسکا نتیجہ انکی اپنی زندگی میں ہی برآمد ہوگا بلکہ وہ نظریہ کو ایسا مضبوط و مستحکم بناکر آگے بڑھاتے ہیں کہ اگر انکی زندگی کا چراغ گل بھی ہوجائے تو بھی انکی چلائی ہوئی تحریک نہ رکتے ہوئے اپنی تکمیل تک پہنچ جائے جیسے کہ علامہ اقبال نے اسلامی ریاست (یعنی نظریہ پاکستان) کی تحریک کو چلایا جو انکی اپنی زندگی میں تو تکمیل نہیں ہوا مگر انکی زندگی کے بعد بھی وہ تحریک کسی ایک شخصیت کی محتاجی کی وجہ سے رکی نہیں بلکہ چلتی رہی اور اتنا زور پکڑگئی کہ بالآخر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی شکل میں وہ نظریہ اسلامی ریاست کی تحریک کامل ہوئی۔
یہ سنتِ محمدی ﷺ پر عمل کا نتیجہ تھا جو نبی کریم ﷺ نے اپنے اصحابؓ پر نظریہ اسلام کو واضح کیا پھر انکے ساتھ اپنے مشن کو شروع کیا اور ریاستِ مدینہ قائم فرمائی اور آپ ﷺ کےنقطہ نظر پر رہتے ہوئے حضرت عمر فاروقؓ نے اس ریاستِ مدینہ کو واحد سپر پاور بنا کر آدھی دنیا پہ محیط کیا اور پھر فاروق اعظمؓ کے یکے بعد دیگرے یہ ریاست اور آگے بڑھی اور دنیا نے دیکھا کہ حضرت امیر معاویہؓ کے دورِ خلافت میں پوری دنیا کا کنٹرول مسلمانوں کے ہاتھ میں تھا بر تو بر بحر پر بھی اسلام کا جھنڈا لہرارہا تھا۔
،جس پر علامہ اقبال نے فرمایا
’’دشت تو دشت دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے‘‘
’’بحرِ ظلمات میں دوڑادیئے گھوڑے ہم نے‘‘
اللہ تعالیٰ پاک وطن کی حفاظت فرمائے۔ حرفِ آخر یہ کہ پہلے اپنا نظریہ واضح کریں اور پھر اپنے مشن کو شروع کردیں تو ان شاءاللہ کامیابی مقدر بنے گی۔

0 تبصرے